سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں

سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں 
‎نیند آنے لگی ہے فرقت میں 

‎ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر 
‎سوچتا ہوں تری حمایت میں 

‎روح نے عشق کا فریب دیا 
‎جسم کو جسم کی عداوت میں 

‎اب فقط عادتوں کی ورزش ہے 
‎روح شامل نہیں شکایت میں 

‎عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں 
‎چیختا ہوں بدن کی عسرت میں 

‎یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم 
‎روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں 

‎وہ جو تعمیر ہونے والی تھی 
‎لگ گئی آگ اس عمارت میں 

‎زندگی کس طرح بسر ہوگی 
‎دل نہیں لگ رہا محبت میں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں