حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
‎ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

‎اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
‎اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

‎بیچ آئے سرِ قریۂ زر جوہرِ پندار
‎جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے

‎مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
‎وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

‎لو دیتی ہوئی رات سخن کرتا ہو ا دن
‎سب اس کےلئے جس سے مخاطب بھی نہیں تھے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں