حیرت زدہ ھے آنکھ ضبطٍ کمال پہ
خود ناز ہم کو ہو گیا اپنے ملال پہ
گرتی رہیں فلک سے شب بھر جو بجلیاں
میٹھے سٌروں میں ڈھل گئیں میری تال پہ
یہ معجزہ تھا صبر کا دیکھا جب غور سے
جگنو چمک رھے تھے مکڑی کے جال پہ
گردشٍ ایام کی پرواہ کیئے بغیر ؛
یہ زندگی گذاری ھے اپنی مثال پہ
اپنا شمار ہوتا ھے اٌن میں تاشفین ؛
اونچی اڑان بھرتے ہیں جو اپنے زوال پہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں