اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں
میں چاہتا تھا چراغوں کو ماہتاب کروں

بتوں سے مجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں

میں کروٹوں کے نئے زاویے لکھوں شب بھر
یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں

اس آدمی کو بس اک دھن سوار رہتی ہے
بہت حسیں ہے یہ دنیا اسے خراب کروں

یہ زندگی جو مجھے قرض دار کرتی ہے
کہیں اکیلے میں مل جائے تو حساب کروں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں