پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
‎اب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں

‎مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیال
‎اس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں

‎بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کی
‎وہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں

‎پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئی
‎مشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم نہیں

‎تم نے سنی نہیں ہے صدائے شکست دل
‎ہم جھیلتے رہے ہیں یہ نقصان تم نہیں

‎تم سے تو بس نباہ کی صورت نکل پڑی
‎جس سے ہوئے تھے وعدہ و پیمان تم نہیں

‎خوش فہمیوں کی بات الگ ہے مگر یہ گھر
‎جس کے لیے سجا ہے وہ مہمان تم نہیں

‎یہ عالم ظہور ہے ہجرت زدہ سلیمؔ
‎ہم بھی دکھی ہیں صرف پریشان تم نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں