پیشِ منظر جو تماشے تھے، پسِ منظر بھی تھے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

پیشِ منظر جو تماشے تھے، پسِ منظر بھی تھے

پیشِ منظر جو تماشے تھے، پسِ منظر بھی تھے
ھم ھی تھے مالِ غنیمت، ھم ھی غارت گر بھی تھے

آستینوں میں چُھپا کر سانپ بھی لائے تھے لوگ
شہر کی اس بھیڑ میں کچھ لوگ بازیگر بھی تھے

برف منظر، دھول کے بادل، ھوا کے قہقہے
جو کبھی دھلیز کے باھر تھے وہ اندر بھی تھے

آخرِ شب درد کی ٹوٹی ھوئی بیساکھیاں
آدھے ترچھے زاویے موسم کے چہرے پر بھی تھے

رات ھم نے جگنوؤں کی سب دُکانیں بیچ دیں
صبح کو نیلام کرنے کے لئے کچھ گھر بھی تھے

کچھ بلاعنوان رشتے، اجنبی سرگوشیاں
رتجگوں کے جشن میں زخموں کے سوداگر بھی تھے

شب پرستوں کے نگر میں بُت پرستی ھی نہ تھی
وحشتیں تھیں، سنگِ مَرمَر بھی تھا، کاریگر بھی تھے

اِس خرابے میں نئے موسم کی سازش تھی تو 
لذّتِ احساس کے لمحوں کے جلتے پَر بھی تھے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں