بقائے ذات کے اِک دورِ لازوال میں ہوں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

بقائے ذات کے اِک دورِ لازوال میں ہوں

بقائے ذات کے اِک دورِ لازوال میں ہوں
مجھے نہ چھیڑ ، کہ میں لمحہء وصال میں ہوں

مقدروں میں ِتری زینتِ بیاض کہاں؟
یہی بہت ہے کہ شیرازہء خیال میں ہوں

سبک روی کا تصور ، نہ رنگِ سست روی
مثالِ موجِ رواں مست اپنے حال میں ہوں

خراج دے کے گزرتے ہیں نفرتوں کے ہجوم
پلا ہوا میں محبت کے ماہ و سال میں ہوں

کنارِ فرشِ سخن ، بھیڑ استعاروں کی
بہ کشتِ رمزِ ُہنر ، لہجہء کمال میں ہوں

ترا خیال مجھے جب سے چھو کے گزرا ہے
میں تب سے رقص کناں دھڑکنوں کی تال میں ہوں

وہ چال ڈھال میں مثلِ غزال ہے اور میں
کسی غریب کے سرمایہء زوال میں ہوں

مری فنا ہے ِترے حسن کی بقا کا جواز
مَیں بن کے وجہِ کشش تیرے خدو خال میں ہوں

کھلی فضا کا تصنع مجھے گوارہ نہیں
میں روم روم ِتری سادگی کے جال میں ہوں

مری شکست ہے بظاہر عدیم فتح مری
میں ہنس رہا ہوں اگرچہ بہت ملال میں ہوں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں