‎جورِ خُلّاق کی تفریح کا سامان ہونا - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

‎جورِ خُلّاق کی تفریح کا سامان ہونا

‎جورِ خُلّاق کی تفریح کا سامان ہونا
‎کس قدر مضحکہ خیز ہے انسان ہونا

‎بندہ پرور یہ حجابوں کا تکلف کیسا
‎مستئ حُسن کی تکمیل ہے عریاں ہونا

‎تیری رسوائی نہ بن جائے کہیں موت میری
‎آج میرے لئے ہرگز نہ پریشاں ہونا

‎زیست ہے یا کسی مفلس کا چراغِ خانہ
‎اس نے سیکھا ہی نہیں کُھل کے فروزاں ہونا

‎عقل ہر چیز کو اک جرم بنا دیتی ہے
‎بے سبب سوچنا، بے سود پشیماں ہونا

‎آؤ سو جائیں خزاں آنے سے پہلے اک رات
‎کون دیکھے گا بہاروں کا پریشاں ہونا

‎بعض راتوں کو عدم ہوتا ہے محسوس مجھے
‎اتنا مشکل بھی نہیں گھر کا بیاباں ہونا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں