اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے اس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے اس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئےاس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے
یہ درد ہے ہمدم اسی ظالم کی نشانیدے مجھ کو دوا ایسی کہ آرام نہ آئے
کاندھے پہ اٹھائے ہیں ستم راہ وفا کےشکوہ مجھے تم سے ہے کہ دو گام نہ آئے
لگتا ہے کہ پھیلے گی شب غم کی سیاہیآنسو مری پلکوں پہ سر شام نہ آئے
میں بیٹھ کے پیتا رہوں بس تیری نظر سےہاتھوں میں کبھی میرے کوئی جام نہ آئے
بیٹھا ہوں دیا گھر کا جو ناصرؔ میں جلا کےایسا نہ ہو پھر وہ دل ناکام نہ آئے
حکیم ناصر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں