اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے
وہ زندگی جو ترے شہر میں گزار آئےتری لگن نے زمانے کی خاک چھنوائی
تری طلب میں تمام آرزوئیں ہار آئے
یہ بے بسی بھی نہیں لطفِ اختیار سے کم
خدا کرے نہ کبھی دل پہ اختیار آئے
قدم قدم پہ گلستاں کھلے تھے رستے میں
عجیب لوگ ہیں ہم بھی،کہ سوئے دار آئے
نہ چہچہے، نہ سرودِ شگفتگی، نہ مہک
کسے اب ایسی بہاروں پہ اعتبار آئے
جنوں کو اب کے گریباں سے کیا ملے گا کہ ہم
بفیضِ موسمِ گل پیرہن اتار آئے
یہ فخر کم تو نہیں کوئے یار میں نکہت
نہ شرمسار گئے تھے، نہ شرمسار آئے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں