اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے

اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے 

وہ زندگی جو ترے شہر میں گزار آئے
تری لگن نے زمانے کی خاک چھنوائی
تری طلب میں تمام آرزوئیں ہار آئے
یہ بے بسی بھی نہیں لطفِ اختیار سے کم
خدا کرے نہ کبھی دل پہ اختیار آئے
قدم قدم پہ گلستاں کھلے تھے رستے میں
عجیب لوگ ہیں ہم بھی،کہ سوئے دار آئے
نہ چہچہے، نہ سرودِ شگفتگی، نہ مہک
کسے اب ایسی بہاروں پہ اعتبار آئے
جنوں کو اب کے گریباں سے کیا ملے گا کہ ہم
بفیضِ  موسمِ  گل  پیرہن  اتار  آئے
یہ فخر کم تو نہیں کوئے یار میں نکہت
نہ شرمسار گئے تھے، نہ شرمسار آئے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں