اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی
میرا دشمن میرے کردار تلک آیا تھا
اتنا گریہ ہوا مقتل میں کہ توبہ توبہ
زخم خود چل کے عزادار تلک آیا تھا
عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ
حسن بکتا ہوا بازار تلک آیا تھا
رات آنکھوں سے کوئی اشک بغاوت کر کے
مسکراتا ہوا رخسار تلک آ گیا تھا
محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی
جب میں اس شحص کے معیار تلک آیا تھا..
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں