اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی

اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی
میرا دشمن میرے کردار تلک آیا تھا 

اتنا گریہ ہوا مقتل میں کہ توبہ توبہ
زخم خود چل کے عزادار تلک آیا تھا 

عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ
حسن بکتا ہوا بازار تلک آیا تھا 

رات آنکھوں سے کوئی اشک بغاوت کر کے 
مسکراتا ہوا رخسار تلک آ گیا تھا  

محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی
جب میں اس شحص کے معیار تلک آیا تھا..

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں