دکھوں کا دشت آنکھوں کا سمندر چھوڑ آیا ہوں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

منگل، 24 مارچ، 2020

دکھوں کا دشت آنکھوں کا سمندر چھوڑ آیا ہوں

دکھوں کا دشت آنکھوں کا سمندر چھوڑ آیا ہوں
جو گھر میں لا نہ سکا تھا وہ باہر چھوڑ آیا ہوں​

تم اگلی بارشوں کے بعد جا کر دیکھنا پیارے
تمہارا نام دیواروں پہ لکھ کر چھوڑ آیا ہوں

محبت کی ہے اس گھر میں رہائش تو نہیں کی ہے
ابھی تو صرف دروازے پہ بستر چھوڑ آیا ہوں

تیری بانہوں میں آ کر بھی یہی محسوس ہوتا ہے
کہ خود کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ آیا ہوں

ابھی کچھ دیر میں پھیلے گی خوشبو ساری بستی میں
وہاں کے اک دریچے میں گل تر چھوڑ آیا ہوں

خدا نا خواستہ میں اگر بن باس لوں تابش
وہاں کس کو بتاؤنگا بھرا گھر چھوڑ آیا ہوں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں