‎رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

‎رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے

‎رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے 
‎ہم  لوگ  اس  لحاظ  سے  کتنے  بلند  تھے

‎آخر کو سو گئی کھلی گلیوں میں چاندنی 
‎کل  شب تمام شہر  کے  دروازے  بند  تھے

‎گزرے  تو  ہنستے  شہر کو  نمناک کر  گئے
‎جھونکے ہوائے شب کے بڑے دردمند تھے 

‎موسم نے بال و  پر تو سنوارے  بہت مگر
‎اڑتے کہاں؟ کہ ہم  تو  اسیر- کمند  تھے 

‎وہ ایک تو، کہ ہم  کو  مٹا کر تھا  مطمئن
‎وہ ایک ہم، کہ پھر بھی حریص- گزند تھے 

‎محسن! ریا کے نام پہ ساتھی تھے بے شمار 
‎جن میں تھا کچھ خلوص وہ دشمن بھی چند تھے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں