کبھی اِس مکاں سے گزرگیا کبھی اُس مکاں سے گزرگیا - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

کبھی اِس مکاں سے گزرگیا کبھی اُس مکاں سے گزرگیا

کبھی اِس مکاں سے گزرگیا کبھی اُس مکاں سے گزرگیا
ترے آستاں کی تلاش میں، میں ہر آستاں سے گزرگیا
کبھی مہرو ماہ ونجوم سے کبھی کہکشاں سے گزرگیا
جوترے خیال میں چل پڑا وہ کہاں کہاں سے گزر گیا
ابھی آدمی ہے فضاؤں میں ابھی آدمی ہے خلاؤں میں
یہ نہ جانے پہنچے گا کس جگہ اگر آسماں سے گزر گیا
کبھی تیرا در کبھی دربدرکبھی عرش پر کبھی فرش پر
غم عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا
یہ مِرا کمالِ گنہ سہی، مگر اس کو دیکھ مِرے خدا
مجھے تُو نے روکا جہاں جہاں میں وہاں وہاں سے گزر گیا
جسے لوگ کہتے ہیں زندگی وہ تو حادثوں کا ہجوم ہے
وہ تو کہئے میرا ہی کام تھا کہ میں درمیاں سے گزرگیا
چلو عرش محفلِ دوست میں کہ پیامِ دوست بھی ہے یہی
وہ جو حادثہ تھا فراق کا سرِدشمناں سے گزر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرش ملیسانی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں