اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

اتوار، 22 مارچ، 2020

اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں

اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں
‎اے رات ہوشیار، کہ تارا نہیں ہوں میں
‎گرمی مرے شعور کی دیتی ہے مجھ کو شکل
‎قسمت کے سرد آنکھ کا لکھا نہیں ہوں میں
‎خوابوں کی سبز دھند سی اب بھی ہے ہر طرف
‎لگتا ہے یوں کہ نیند سے جاگا نہیں ہوں میں
‎اس طرح پھیر پھیر کے باتیں نہ کیجیے
‎لہجے کا رخ سمجھتا ہوں، بچہ نہیں ہوں میں
‎میری تو بات بات کی شاہد ہے کائنات
‎دل سے گھڑا ہوا کوئی قصہ نہیں ہوں میں
‎درپیش صبح وشام ہے اب یہ ہی کشمکش
‎کیسے بنوں میں اس کا کہ اپنا نہیں ہوں میں
‎ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرز منافقت
‎دنیا! ترے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
‎دل کو گواہ کرکے لکھا جو بھی کچھ لکھا
‎کاغذ کا پیٹ بھرنے کو لکھتا نہیں ہوں میں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں