ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہے لیکن شب فراق ترا کیا اصول ہے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

اتوار، 22 مارچ، 2020

ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہے لیکن شب فراق ترا کیا اصول ہے

ہم کو تو انتظار سحر بھی قبول ہے
لیکن شب فراق ترا کیا اصول ہے
اے ماہ نیم شب تری رفتار کے نثار
یہ چاندنی نہیں ترے قدموں کی دھول ہے
کانٹا ہے وہ کہ جس نے چمن کو لہو دیا
خون بہار جس نے پیا ہے وہ پھول ہے
دیکھا تھا اہل دل نے کوئی سرو نو بہار
دامن الجھ گیا تو پکارے ببول ہے
باقی ہے پو پھٹے بھی ستاروں کی روشنی
شاید مریض شب کی طبیعت ملول ہے
جب معتبر نہیں تھا مرا عشق بدگماں
اب حسن خود فروش کا رونا فضول ہے
لٹ کر سمجھ رہے ہیں کہ نادم ہے راہزن
کتنی حسین اہل مروت کی بھول ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں