جو بات شرطِ وصال ٹھہری ، وہی ہے اب وجۂ بدگمانی۔۔
اُدھر ہےاس باب میں خموشی، اِدھر ہےپہلی سی بےزبانی۔۔
کسی ستارےسےکیا شکایت؟کہ رات سب کچھ بجھا ہواتھا،
فسردگی لکھ رہی تھی دل پر، شکستگی کی نئی کہانی۔۔
عجیب آشوبِ وضع داری، ہمارے اعصاب پہ ہے طاری،
لبوں پہ ترتیب خوش کلامی، دلوں میں تنظیم نوحہ خوانی۔۔
ہمارے لہجے میں یہ توازن، بڑی صعوبت کے بعد آیا،
کئی مزاجوں کےدشت دیکھے،کئی روّیوں کی خاک چھانی۔۔
ہم اپنی سانسیں بحال کرنے، یہ کس فضامیں رکےہوئےہیں،
یہاں نہ آثارِ درد مندی، نہ کوئی تہذیبِ میزبانی۔۔
اب اک ملامت کی رہ گزر ہے، اور اُس پہ تنہائی کا سفر ہے،
نہ تم نےمنزل سےآنکھ پھیری، نہ ہم نے رستےکی بات مانی۔۔
کسی اداسی کو ڈھونڈ لاؤ کہ شام اپنے عروج پر ہے،
یہ خوشبوؤں کے فریب دیکھو، یہ رنگ ہیں کتنے داستانی۔۔
نگاہ کے آئینے میں لرزاں ، یہ شعلۂ آرزو نہیں ہے،
یہ لمحہ لمحہ سلگ رہے ہیں، وجود میں صبر کے معنی۔۔
کبھی یہ سوچا ہے عزم تم نے؟بہار کس رُت کا نام ہوگا؟
خزاں سےتم بھی گذر رہےہو، تو پھر یہ کیسی غلط بیانی۔۔؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں