بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

ہفتہ، 7 مارچ، 2020

بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے

بتاتا  ہے  مجھے  آئینہ  کیسی  بے رُخی سے
کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے
کسے   الزام   دوں   میں   رائیگاں   ہونے   کا  اپنےکہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے
ہر   اک   لمحہ   مجھے   رہتی   ہے   تازہ   اک  شکایتکبھی تجھ سے، کبھی خود سے، کبھی اس زندگی سے
مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کیمیں   چھپتا   پھر   رہا   ہوں   آج  اپنے  آپ  ہی  سے
وہ  بے کیفی  کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہےکہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے
سکونِ خانۂ  دل  کے  لیے کچھ گفتگو کرعجب ہنگامہ برپا ہے تری لب بستگی سے
تعلق  کی  یہی  صورت  رہے  گی  کیا  ہمیشہمیں اب اُکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے
جو   چاہے   وہ  ستم  مجھ  پر  روا  رکھے  یہ  دنیامجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے
ترے  ہونے  نہ  ہونے  پر  کبھی  پھر  سوچ لوں گاابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے
رہا  وہ  ملتفت  میری  طرف  پر  اُن  دنوں  میںخود اپنی سمت دیکھے جا رہا تھا بے خودی سے
کوئی خوش فکر سا تازہ سُخن بھی درمیاں رکھکہاں تک دل کو بہلائوں میں تیری دِل کشی سے
کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشیمگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے
وہ  دن  بھی  تھے  تجھے  میں  والہانہ  دیکھتا  تھایہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے
ابھی  عِرفانؔ آنکھوں  کو بہت کچھ دیکھنا ہےتمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں