دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

اتوار، 22 مارچ، 2020

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں
‎ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
‎جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
‎ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چپ چاپ
‎ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
‎جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
‎لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
‎ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
‎جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں