سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے - Urdu Poetry

word best urdu poetry, best no1 urdu poetry blog, sad poetry,gazals, 2 lines poetry

اتوار، 22 مارچ، 2020

سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے

سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے
‎جن کی مہماں تھی شبِ غم وہی بے گھر نکلے
‎ایسی آنکھوں سے تو بہتر تھا کہ اندھے ہوتے
‎ہم جسے آئینہ سمجھے وہی پتھر نکلے
‎دن بُرے ہوں تو گُہر پر بھی ہو کنکر کا گماں
‎بن پڑے بات تو صحرا بھی سمندر نکلے
‎آبگینوں کو جو توڑا تو وہ ٹھہرے مٹی
‎سنگیزوں کو جو پرکھا تو وہ "مرمر" نکلے
‎جن کو نفرت سے ہَوا، راہ میں چھوڑ آئی تھی
‎آسماں پر وہی ذرے مہ و اختر نکلے
‎شہر والوں نے جنہیں دار کا مجرم سمجھا
‎وہ گنہگار محبت کے پیمبر نکلے
‎خوف سے موت کی ہچکی بھی اٹک جاتی ہے
‎اس خامشی میں کہاں کوئی سُخنور نکلے؟
‎میری ہر سانس تھی میزانِ عدالت محسنؔ
 نکلے ‎جتنے محشر تھے میرے جسم کے اندر 
x

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں